نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

غزل کی مقبولیت کے اسباب

 غزل کی مقبولیت کے اسباب غزل اردو شاعری کی مقبول ترین صنف سخن ہے۔اس میں موضوع کی کسی طرح کی کوئی قید نہیں ہوتی ہے۔ انسان کے تجربات اور تخیلات میں آنے والے بیشتر موضوعات پر اشعار کہے جا چکے ہیں اس کے ساتھ ساتھ  غزل کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ ایک ہی موضوع پر مختلف شاعروں نے مختلف زاویے سے اشعار کہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی موضوع پر ایک سے زیادہ اشعار سننے یا پڑھنے میں گراں نہیں گزرتی ہے بلکہ اس سے لطف میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ غزل میں جب شاعر اپنے تجربات پروتا ہے تو اس تجربات سے متعلق افراد اسے اپنا درد سمجھ کر کے اچھل پڑتے ہیں اور داد دینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ غزل کے اشعار ہی ہوتے ہیں جسے لوگ اپنی تقریروں اور تحریروں میں بے دریغ استعمال کرتے ہیں ان اشعار سے نہ صرف تحریریں اور تقریریں دلچسپ ہوتی ہے بلکہ موثر بھی ہو جاتی ہیں اور قارئین و سامعین پر اپنے گہرے نقوش چھوڑ جاتی ہیں۔ غزل میں وہ طاقت ہے جو داستان تک میں نہیں ہے دو مصرعوں کی معنویت داستانوں پر بھاری ہوتی ہیں۔ غزل کے اشعار کو یاد رکھنا آسان ہوتا ہے گفتگو میں اس کا برمحل استعمال بھی آسان ہوتا ہے۔ اشعار کو بر محل استعمال کر...
حالیہ پوسٹس

غزل

غزل جسے میں سمجھتا ہوں اپنا مسیحا مری ہر خوشی سے اسے دشمنی ہے  پسِ مسکراہٹ کی سمجھے  ادسی میری قربتوں میں اسی کی کمی ہے ہیں نمناک آنکھیں جن کے سبب سے وہی کہہ رہے ہیں یہ کیسی نمی ہے ذرّوں کو مہتاب پل میں جو کر دے اسی کی ستائش سے دنیا ہٹی ہے ہے رفتار جس کی زمانے میں بہتر اسی کو گرانے میں دنیا لگی ہے جسے سب سمجھتے ہیں احقر دیا ہے سبھی کے گھروں میں وہی روشنی ہے پرویز اختر خان 

تجاویز براۓ دلچسپ تدریس و آموزش

علم کی اہمیت و افادیت کو ہر ذی روح نہ صرف تسلیم کرتا ہے بلکہ اسے حاصل کرنے کے لیے بقدرِ استطاعت تگ و دو بھی کرتا ہے اس کی خاطر بے شمار اذیتوں اور پریشانیوں سے گزرتا بھی ہے۔ صبر اور استقامت کے ساتھ اس راہ میں جو جانب منزل رواں دواں رہتا ہے کامیابی اسے کے حصے میں آتی ہے ۔تعلیم ہی سے ہم زندگی میں حائل ہونے والی تاریکیوں سے نجات پا سکتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ دوسروں کی راہوں کو بھی روشن کر سکتے ہیں۔ تعلیم ہی ہمیں اعلیٰ اقدار و اخلاق سے روشناس کراتی ہے اچھے اور برے کی تمیز ہمیں تعلیم ہی سے حاصل ہوتی یے۔سماج اور معاشرے میں انقلابی تبدیلیاں تبھی ممکن ہیں جب ہم خود کو اور اپنے اطراف کے لوگوں کو تعلیم کی جانب متوجہ کریں گے۔

غزل

غزل عدو کے سبھی  پیچ و خم   جانتے ہیں جو سب نے کیا ہے ستم جانتے ہیں ہیں خوشیاں ہماری عیاں ان پہ لیکن ہمارے غموں کو وہ کم   جانتے   ہیں نہ ہرگز کرو پارسائی کے دعوے تمہاری خطاؤں کو ہم جانتے   ہیں میری حالتوں سے ہیں اغیار واقف مگر میرے احباب کم جانتے ہیں بچھڑنےکا دلبر سے عالم نہ پوچھو قیامت کا منظر تو ہم جانتے ہیں زمانہ ہے بس اس کی باتوں سے واقف اشاروں کو اس کے توہم جانتے ہیں میں کن الجھنوں میں ابھی مبتلا ہوں یہ بس میرے اہلِ کرم جانتے ہیں ہیں پرویز کی خصلتیں سب پہ ظاہر مگر لوگ   اخترؔ کو کم   جانتے   ہیں پرویز اخترؔ خان

غزل

غزل بے وفا کہہ کے مہربانی کی بعد کہنے کے نظر ثانی کی بے وفا کودے کے دل اس نے رنگ کر لی ہے کم جوانی کی ایک مدت سے رہ کے صحرا میں ختم کر لی ہے پیاس پانی کی دل کو جس نے لگا لیا اس نے اشک پی پی کے زندگانی کی جانے کیا ہو گیا ہے دریا کو نہ رہا شوق اب روانی کی کر کے وعدہ وہ نہیں بھولا جینا آتا نہیں ہے یعنی کی راستوں پر جمے رہو اخترؔ مت کرو چاہ کامرانی کی پرویز اخترؔ خان

غزل

غزل اس نے رخ سے ہٹا کے بالوں کو کر دیا مضطرب اجالوں کو لہو ٹپکا کے خشک آنکھوں سے معتبر کر لیا ہے نالوں کو اس نے اثبات میں ہلا کےسر کر دیا مستند حوالوں کو غیر سے محو گفتگو ہوکر زخم دیتا رہا خیالوں کو گامزن ہوں میں جانب منزل کبھی دیکھا ہی نہیں چھالوں کو تم نے پرویز اس میں کیا دیکھا رد جو کرتے ہو با کمالوں کو پرویز اخترؔ خان

تدریسی و آموزشی عمل میں امدادی اشیا کی اہمیت

تدریسی و آموزشی عمل میں امدادی اشیا کی اہمیت           طلباکی پوشیدہ صلاحیتوں کی تشخیص کرنا اسے ہر ممکن فروغ دینا اورچمکانا معلم کا اولین فریضہ ہوتا ہے۔ سماج اور معاشرے کا مستقبل  کمرۂ جماعت میں تشکیل پاتا ہے اور کمرہ جماعت میں مؤثر، خوش گوار،دلچسپ اور پُرلطف تدریس کے لیے جدید تدریسی و آموزشی  اشیاکا مناسب اور بر حل استعمال انتہائی ضروری ہے۔ جس طرح ایک فوجی اپنے جدید جنگی آلات کے ساتھ میدان جنگ میں جاتا ہے اوراپنی پوری طاقت کے ساتھ دشمنوں کا مقابلہ کرتا ہے اورفتح کے جھنڈے بلند کرتا ہے جشن مناتا ہے۔ بالکل اسی طرح اساتذہ کو بھی میں پوری تیاری کے ساتھ ساتھ جدید تدریسی و آموزشی  اشیا کے ساتھ  کمرۂ جماعت  جانا چاہیے تبھی وہ اپنے عظیم مقاصد میں کامیاب ہو پائیں گے۔دیگر مضامین کی طرح زبان کی تدریس میں بھی تدریسی و آموزشی  اشیا کو بڑی اہمیت ہے۔اس کے مناسب اور بر محل استعمال سے ہی کمرۂ جماعت میں    طلبا  دلچسپی سے سیکھتے ہیں،یہی طریقہ تدریس سےان کے ذہنوں میں دیر پا نقوش چھوڑتے ہیں ،اس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوتی ہے...