غزل کی مقبولیت کے اسباب غزل اردو شاعری کی مقبول ترین صنف سخن ہے۔اس میں موضوع کی کسی طرح کی کوئی قید نہیں ہوتی ہے۔ انسان کے تجربات اور تخیلات میں آنے والے بیشتر موضوعات پر اشعار کہے جا چکے ہیں اس کے ساتھ ساتھ غزل کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ ایک ہی موضوع پر مختلف شاعروں نے مختلف زاویے سے اشعار کہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی موضوع پر ایک سے زیادہ اشعار سننے یا پڑھنے میں گراں نہیں گزرتی ہے بلکہ اس سے لطف میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ غزل میں جب شاعر اپنے تجربات پروتا ہے تو اس تجربات سے متعلق افراد اسے اپنا درد سمجھ کر کے اچھل پڑتے ہیں اور داد دینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ غزل کے اشعار ہی ہوتے ہیں جسے لوگ اپنی تقریروں اور تحریروں میں بے دریغ استعمال کرتے ہیں ان اشعار سے نہ صرف تحریریں اور تقریریں دلچسپ ہوتی ہے بلکہ موثر بھی ہو جاتی ہیں اور قارئین و سامعین پر اپنے گہرے نقوش چھوڑ جاتی ہیں۔ غزل میں وہ طاقت ہے جو داستان تک میں نہیں ہے دو مصرعوں کی معنویت داستانوں پر بھاری ہوتی ہیں۔ غزل کے اشعار کو یاد رکھنا آسان ہوتا ہے گفتگو میں اس کا برمحل استعمال بھی آسان ہوتا ہے۔ اشعار کو بر محل استعمال کر...
غزل جسے میں سمجھتا ہوں اپنا مسیحا مری ہر خوشی سے اسے دشمنی ہے پسِ مسکراہٹ کی سمجھے ادسی میری قربتوں میں اسی کی کمی ہے ہیں نمناک آنکھیں جن کے سبب سے وہی کہہ رہے ہیں یہ کیسی نمی ہے ذرّوں کو مہتاب پل میں جو کر دے اسی کی ستائش سے دنیا ہٹی ہے ہے رفتار جس کی زمانے میں بہتر اسی کو گرانے میں دنیا لگی ہے جسے سب سمجھتے ہیں احقر دیا ہے سبھی کے گھروں میں وہی روشنی ہے پرویز اختر خان