نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

تدریسی و آموزشی عمل میں امدادی اشیا کی اہمیت


تدریسی و آموزشی عمل میں امدادی اشیا کی اہمیت 

       طلباکی پوشیدہ صلاحیتوں کی تشخیص کرنا اسے ہر ممکن فروغ دینا اورچمکانا معلم کا اولین فریضہ ہوتا ہے۔ سماج اور معاشرے کا مستقبل  کمرۂ جماعت میں تشکیل پاتا ہے اور کمرہ جماعت میں مؤثر، خوش گوار،دلچسپ اور پُرلطف تدریس کے لیے جدید تدریسی وآموزشی اشیاکا مناسب اور بر حل استعمال انتہائی ضروری ہے۔ جس طرح ایک فوجی اپنے جدید جنگی آلات کے ساتھ میدان جنگ میں جاتا ہے اوراپنی پوری طاقت کے ساتھ دشمنوں کا مقابلہ کرتا ہے اورفتح کے جھنڈے بلند کرتا ہے جشن مناتا ہے۔ بالکل اسی طرح اساتذہ کو بھی میں پوری تیاری کے ساتھ ساتھ جدید تدریسی وآموزشی اشیا کے ساتھ کمرۂ جماعت جانا چاہیے تبھی وہ اپنے عظیم مقاصد میں کامیاب ہو پائیں گے۔دیگر مضامین کی طرح زبان کی تدریس میں بھی تدریسی وآموزشی اشیا کو بڑی اہمیت ہے۔اس کے مناسب اور بر محل استعمال سے ہی کمرۂ جماعت میں  طلبا دلچسپی سے سیکھتے ہیں،یہی طریقہ تدریس سےان کے ذہنوں میں دیر پا نقوش چھوڑتے ہیں ،اس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوتی ہے بلکہ طلبا کی مخفی صلاحیتوں کو جلا بھی ملتی ہے اور تدریسی و آموزشی عمل انتہائی آسان ہو جاتا ہے ۔طلبا ذہن اور حواس کے ذریعہ ہی کمرہ جماعت میں سب کچھ سیکھتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ اساتذہ کمرہ جماعت میں تدریسی و اکتسابی اشیا کا بھر پوراستعمال کریں ۔جب اساتذہ جدید تدریسی و آموزشی اشیا کا استعمال کمرۂ جماعت میں کرتے ہیں تو طلبا بھی اپنے ذہن اور حواس کا پوری توجہ کے ساتھ بھر پور استعمال کرتے ہیں۔ روایتی طریقہ تدریس میں جدیدتدریسی وآموزشی اشیاکا بھرپور استعمال کرکے آموزش کے عظیم مقاصد کو آسانی سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔برسوں سے رائج تدریسی وآموزشی اشیا کے استعمال کے ساتھ ساتھ تدریسی و آموزشی عمل کو پُراثر ، پُر لطف اور دلچسپ بنانے کے لیے اساتذہ کو تدریس کے نئے نئے طریقوں کی تلاش میں ہمہ وقت کوشاں رہنا چاہیے کیوں کہ دنیا ہرلمحہ نئی ایجادات سے رو برو ہو رہی ہے اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ تیز رفتار مثبت تبدیلیوں  سے خود کو ہم آہنگ کرکے نئے نئے آلات کے ساتھ کمرۂ جماعت میں جائیں اور اسباق کو نئے زاویے سے  پیش کریں تویقیناً طلبا ہماری طرف زیادہ متوجہ ہوں گے اور سیکھنے کے لیے جلدی آمادہ بھی ہوں گے اور اگر کسی طرح سے ہم طلباکو کمرہ جماعت میں سیکھنے کے لیے آمادہ کرنے میں کامیاب ہو گئے توہمارا کام آدھے سے زیادہ ویسے ہی آسان ہو جائے گا اساتذہ تدریسی عمل کو آسان اور دلچسپ بنانے کے لیے سمعی آلات، بصری آلات اور سمعی و بصری آلات کا استعمال کرتے ہیں اس کے لیے انھیں ریڈیو ، ٹپ ریکارڈر، پروجیکٹر، کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، ڈی وی ڈی، سی ڈی، ٹیلی ویژن، چارٹ، خاکے، فلیش کارڈ، گراف، نقشے، کارٹون، دیواری میگزین ، ماڈل، میوزیم، سیر و تفریح، ڈرامہ، تصاویراور پوسٹر وغیرہ کی ضرورت پڑتی ہے۔اس لیے تدریسی و آموزشی عمل میں جدید تدریسی وآموزشی اشیاکی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے تدریسی امدادی آلات کے لیے انتظامیہ کی جانب سےاساتذہ کو الگ سے  فنڈ ضرور ملنا چاہیے تاکہ مذکورہ بالا تدریسی وآموزشی اشیا کو دوران تدریس ضرورت کے مطابق کمرہ جماعت میں اساتذہ آسانی سے استعمال کرسکیں۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

غزل

غزل جسے میں سمجھتا ہوں اپنا مسیحا مری ہر خوشی سے اسے دشمنی ہے  پسِ مسکراہٹ کی سمجھے  ادسی میری قربتوں میں اسی کی کمی ہے ہیں نمناک آنکھیں جن کے سبب سے وہی کہہ رہے ہیں یہ کیسی نمی ہے ذرّوں کو مہتاب پل میں جو کر دے اسی کی ستائش سے دنیا ہٹی ہے ہے رفتار جس کی زمانے میں بہتر اسی کو گرانے میں دنیا لگی ہے جسے سب سمجھتے ہیں احقر دیا ہے سبھی کے گھروں میں وہی روشنی ہے پرویز اختر خان 

تجاویز براۓ دلچسپ تدریس و آموزش

علم کی اہمیت و افادیت کو ہر ذی روح نہ صرف تسلیم کرتا ہے بلکہ اسے حاصل کرنے کے لیے بقدرِ استطاعت تگ و دو بھی کرتا ہے اس کی خاطر بے شمار اذیتوں اور پریشانیوں سے گزرتا بھی ہے۔ صبر اور استقامت کے ساتھ اس راہ میں جو جانب منزل رواں دواں رہتا ہے کامیابی اسے کے حصے میں آتی ہے ۔تعلیم ہی سے ہم زندگی میں حائل ہونے والی تاریکیوں سے نجات پا سکتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ دوسروں کی راہوں کو بھی روشن کر سکتے ہیں۔ تعلیم ہی ہمیں اعلیٰ اقدار و اخلاق سے روشناس کراتی ہے اچھے اور برے کی تمیز ہمیں تعلیم ہی سے حاصل ہوتی یے۔سماج اور معاشرے میں انقلابی تبدیلیاں تبھی ممکن ہیں جب ہم خود کو اور اپنے اطراف کے لوگوں کو تعلیم کی جانب متوجہ کریں گے۔

غزل

غزل عدو کے سبھی  پیچ و خم   جانتے ہیں جو سب نے کیا ہے ستم جانتے ہیں ہیں خوشیاں ہماری عیاں ان پہ لیکن ہمارے غموں کو وہ کم   جانتے   ہیں نہ ہرگز کرو پارسائی کے دعوے تمہاری خطاؤں کو ہم جانتے   ہیں میری حالتوں سے ہیں اغیار واقف مگر میرے احباب کم جانتے ہیں بچھڑنےکا دلبر سے عالم نہ پوچھو قیامت کا منظر تو ہم جانتے ہیں زمانہ ہے بس اس کی باتوں سے واقف اشاروں کو اس کے توہم جانتے ہیں میں کن الجھنوں میں ابھی مبتلا ہوں یہ بس میرے اہلِ کرم جانتے ہیں ہیں پرویز کی خصلتیں سب پہ ظاہر مگر لوگ   اخترؔ کو کم   جانتے   ہیں پرویز اخترؔ خان