غزل
اس نے رخ سے ہٹا
کے بالوں کو
کر دیا مضطرب اجالوں
کو
لہو ٹپکا کے خشک
آنکھوں سے
معتبر کر لیا ہے
نالوں کو
اس نے اثبات میں
ہلا کےسر
کر دیا مستند حوالوں
کو
غیر سے محو گفتگو
ہوکر
زخم دیتا رہا
خیالوں کو
گامزن ہوں میں جانب
منزل
کبھی دیکھا ہی نہیں
چھالوں کو
تم نے پرویز اس میں
کیا دیکھا
رد جو کرتے ہو با
کمالوں کو
پرویز اخترؔ خان
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں