غزل
جو سب نے کیا ہے ستم جانتے ہیں
ہیں خوشیاں ہماری عیاں ان پہ لیکن
ہمارے غموں کو وہ کم جانتے ہیں
نہ ہرگز کرو پارسائی کے دعوے
تمہاری خطاؤں کو ہم جانتے ہیں
میری حالتوں سے ہیں اغیار واقف
مگر میرے احباب کم جانتے ہیں
بچھڑنےکا دلبر سے عالم نہ پوچھو
قیامت کا منظر تو ہم جانتے ہیں
زمانہ ہے بس اس کی باتوں سے واقف
اشاروں کو اس کے توہم جانتے ہیں
میں کن الجھنوں میں ابھی مبتلا ہوں
یہ بس میرے اہلِ کرم جانتے ہیں
ہیں پرویز کی خصلتیں سب پہ ظاہر
مگر لوگ اخترؔ
کو کم جانتے ہیں
پرویز اخترؔ خان
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں