غزل
بے وفا کہہ کے مہربانی
کی
بعد کہنے کے نظر
ثانی کی
بے وفا کودے کے
دل اس نے
رنگ کر لی ہے کم
جوانی کی
ایک مدت سے رہ کے
صحرا میں
ختم کر لی ہے پیاس پانی
کی
دل کو جس نے لگا
لیا اس نے
اشک پی پی کے زندگانی
کی
جانے کیا ہو گیا
ہے دریا کو
نہ رہا شوق اب روانی
کی
کر کے وعدہ وہ نہیں
بھولا
جینا آتا نہیں ہے
یعنی کی
راستوں پر جمے رہو اخترؔ
مت کرو چاہ کامرانی
کی
پرویز اخترؔ خان
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں