غزل
جسے میں سمجھتا ہوں
اپنا مسیحا
مری ہر خوشی سے اسے
دشمنی ہے
پسِ مسکراہٹ کی سمجھے ادسی
میری قربتوں میں
اسی کی کمی ہے
ہیں نمناک آنکھیں جن کے سبب سے
وہی کہہ رہے ہیں
یہ کیسی نمی ہے
ذرّوں کو مہتاب پل
میں جو کر دے
اسی کی ستائش سے
دنیا ہٹی ہے
ہے رفتار جس کی زمانے
میں بہتر
اسی کو گرانے میں دنیا لگی ہے
جسے سب سمجھتے ہیں
احقر دیا ہے
سبھی کے گھروں میں
وہی روشنی ہے
پرویز اختر خان
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں