نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

رشتوں کی مضبوطی میں عام سوالوں کا کردار


رشتوں کو خوش گوار بنانےمیں سوالوں کا کردار انتہائی اہم
              صدیوں کے طویل سفر کے بعد، بتدریج ترقی کے مراحل سےگزرتا ہواسماج کا جو ڈھانچہ آج ہمارے سامنے  موجودہے وہ انتہائی پیچیدہ اور گنجلک ہے۔ہماری تہذیبی وسماجی قدریں زمان و مکان کے مطابق مسلسل بدلتی  رہتی ہیں بلکہ حیرت  کی بات تو یہ ہےکہ ایک ہی وقت میں مختلف علاقوں میں  یہ قدریں مختلف  بھی ہوتی ہیں۔  بلکہ انتہا تو یہ ہےکہ کوئی ایک عمل کسی علاقے  میں بہت اچھا مانا جاتا ہے اور ٹھیک اسی وقت وہی عمل دوسرے علاقے میں غیر مہذب اور قابل جرم سمجھا جاتا ہے۔حال ہی میں ہمارے ملک میں  دفعہ377 پر آیا فیصلہ اس کی تازہ  ترین اور زندہ مثال ہے۔بہر حال  ان پیچیدگیوں کے باوجود بھی فطرت کے کچھ بنیادی اصول اور تقاضے ہیں جو ہر دورمیں ہر علاقہ میں ایک سے ہوتے ہیں زمانے کی  بے شمار کروٹوں اور تبدیلیوں کے با وجود بھی  ازل سے فطرت کے وہ قانون  نہ کبھی بدلے ہیں اور نہ رہتی دنیا تک کبھی بدلیں گے۔دنیا کا ہر شخص خوشی  کا متلاشی ہوتاہے اورغم سے  ہمیشہ خود کو کوسوں دور رکھنا چاہتا ہے لیکن سچائی یہ بھی ہے کہ  اس کوشش میں دنیا کا کوئی بھی  آدمی آج تک کامیابی حاصل نہیں کر سکا۔دنیا کے ہر شخص کو خوشیاں بھی ضرور ملتی ہیں اور  غم کا سامنا بھی ہر حال میں کرنا ہی پڑتا ہے ۔ہاں اتنا ضرور  ہے کہ ہر کسی کی زندگی میں  خوشی اور غم  کا  تناسب مختلف ہوتا ہے۔ کسی کے حصے میں خوشیاں زیادہ آتی ہیں تو کسی کے حصے میں کم آتی ہیں۔زندگی کو دلچسپ اور خوش گوار بنانے کے لیے سب سے پہلے  ہمیں آپس کے  رشتوں کو خوشگوار بنانا  ہوگا۔ ورنہ ہم لاکھ دولت ،شہرت اور عزت کما لیں   زندگی میں اصلی خوشی نہیں مل سکتی ہے۔ رشتوں کو خوش گوار بنانے  میں مثبت گفتگو  اور اچھے برتاؤکو مرکزی حاثیت حاصل ہے   اور گفتگو میں سوالوں کی اہمیت  اور  اس میں بھی اسالیب سوال کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ ہمیشہ سے انسان کا سماج سے گہرا تعلق رہا ہے اور رہے گا بھی، انسان کبھی تنہا نہیں رہ سکتا یہ ہمیشہ سماج سے اپنا رشتہ کسی نہ کسی شکل میں ضرور  استوار رکھنا چاہتا ہے۔دنیا کا ہر شخص اپنے احساسات و جذبات اورتجربات و مشاہدات  کو دوسروں سے مشترک کرنا چاہتا ہے۔ کچھ  دوسروں سے  سننا چاہتا ہے اور کچھ اپنی سنانا چاہتا ہے یعنی تبادلہ خیال کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتا ہے۔ اسی بنیادی ضرورت  کی تکمیل  کی خاطرہم اپنی روز مرہ کی سماجی زندگی میں مختلف  قسم کےلوگوں سے ملتے ہیں اور  ان سے گفتگو بھی کرتے ہیں ۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ  رفتہ رفتہ  شعوری یا غیر شعوری طور پر ان  میں سے کچھ لوگوں سےہمارا  ایک  مضبوط رشتہ بھی قائم ہو جاتا ہے۔ ان رشتوں میں سےہم کچھ رشتوں کو تو  ناموں سے جانتے ہیں مگران  میں  بہت سے رشتے ایسے  بھی ہوتے ہیں  جسے ہم چاہ کربھی کوئی نام نہیں دے سکتے جبکہ  وہ  رشتے ہمارے نزدیک بے حد عزیز بھی ہوتے ہیں اور ہماری زندگی کے نشیب و فراز  میں کافی اہمیت بھی رکھتے ہیں۔بہت سےرشتےتوپیدائشی طورپرہمیں مل جاتے ہیں مگربہت سے رشتوں کو سماج میں مل جل کر رہتے ہوئےہم خود بناتے ہیں۔
          خوش گوار  رشتوں کا انحصارہمارے سوال اور اسالیب سوال پر ہوتا ہے۔سوال ، اسالیب سوال اور اس کی نوعیت  ہی ہمارے رشتوں کومضبوط بھی بناتےہیں اور کمزور بھی۔اگر ہمارے سوال تلخ اور سخت ہوں گے تو رشتوں میں کڑواہٹ اور تلخی  کا پیدا ہونا عین  فطری  ہے اوراگر ہمارے سوالوں کا اسلوب بہتر ہوگا تو ہمارے رشتے بھی مضبوط ،مستحکم اور با وقار ہوں گے۔گویا کہ جس سے ہمارا جیسا رشتہ ہوتا ہے ہمارے سوالوں کاا سلوب بھی اسی  اندازکا ہوتا ہے۔نوکر سےسوال کرتے ہیں تو ہمارا طرز اورلب و لہجہ کچھ اور ہوتا ہے،کسی مزدور سے کرتے ہیں تو کچھ اور،کسی حاکم یا افسرسے کوئی  سوال کرتے ہیں تو طرز کچھ اور، جبکہ اس کے بجائے ہمیں سبھی کی عزّت کرنی چاہیے۔یعنی ہم اپنے سوالوں کے اسلوب کو بہتر بنا کر سماج سے  اور ساتھ ہی ساتھ  لوگوں سے بھی اپنا رشتہ بہتر بنا سکتے ہیں ۔ گھر کےاور اس کےآس پاس کے ماحول  کو سوالوں کے سے خوشگوار اور خوش نما بنا سکتے ہیں۔ اس لیے کسی سے سوال کرنے سے پہلے اس بات کا خیال ضرور رکھنا چاہیےکہ ہمارے رشتے اس کے ساتھ کیسے ہیں یا وہ کس رتبے کا مالک ہے اگر ہم  اپنے کسی بے تکلف دوست سے  سوال کرتے ہوئے نرم اور پر تکلف اسلوب اختیار کریں گے تو شاید وہ ہمارے اس انداز سے متحیر ہو جائے کیوں کہ ہم سے وہ ایسی توقع ہرگز نہیں کرتا ہے۔  اسی طرح اگر ہم اپنے بچوں سے  گھر پہنچتےہی یہ کہیں کہ دن بھر ٹی۔وی۔ دیکھتے رہتے ہو!ابھی اسے  بند کرو اور پڑھائی شروع کرو ،تو اس سوال  پر بچےضرور جھنجھلا ئیں گے اور غصہ کریں گے  اور اس طرح  دھیرے دھیرے بچے ہم سے بہت ساری باتیں چھپانے بھی لگیں گے اور گھر میں رہتے ہوئے بھی  رفتہ رفتہ وہ ہم سے کافی دور ہو جائیں گے۔ کبھی کبھی تو وہ بچے ہم سے نفرت  بھی کرنےلگتے ہیں۔اگر ہم اس  طرح براہ راست سوال کرنے اور ٹوکنے کے بجائے  یہ کہیں  کہ بیٹے کون سا پروگرام دیکھ  رہے ہو؟ کب تک دیکھنے کا ارادہ ہے؟ یا اسی طرح کا کوئی اور انداز اختیار کیا جائے تو شاید ان کاردعمل پہلے جیسا بالکل نہ ہو بلکہ عین ممکن ہےکہ کچھ دیر بعدوہ خود ٹی۔ وی۔ بند کر کے دوسرے کاموں کی طرف ضرور متوجہ ہو جائیں۔اسی طرح کوئی بیوی اپنے  شوہر سے یا  کوئی شوہر اپنی بیوی  کےتاخیر سے گھر  آنے پر   اس سے یہ پوچھے کہ اتنی دیر کیوں ہو گئی آپ کو؟ تو اس طرح کے سوال پر لازم ہے کہ غصہ آئے  اور دونوں کے آپسی رشتے تلخ ہو جائیں۔اگر  اسی بات کو کچھ  دیرکے بعد اطمینان سے  مناسب موقع  دیکھ کے شائستگی سے یہی سوال اچھے اسلوب میں کریں تو یقیناً اس کے نتائج کچھ اور ہی ہوں گے ۔اس طرح کے برتاؤ سے رشتے اور بھی مضبوط اورخوش گوار ہوں گے اور دونوں کے درمیان پیار میں مزید اضافہ بھی گا۔اس لیے رشتوں کو خوشگوار بنانے کے لیے دوران گفتگو سوالوں کا اسلوب اچھا ہی رکھنا ہوگا تاکہ ہم بھی خوش رہیں اورلوگ بھی ہم سے خوش رہیں۔ رشتوں کے استحکام میں جو اہمیت سوالوں کو حاصل ہے وہ انتہائی حیرت انگیز ہے۔لیکن  عام طور سے ہم لوگوں کا ذہن اس طرف بالکل نہیں جاتا ہے۔لوگوں کو اس بات کا اندازہ  ہی نہیں ہے کہ یہ معمولی عمل، رشتوں کے استحکام میں غیرمعمولی کردار ادا کرسکتا ہے۔جب سوال ہماری زندگی میں اتنی اہمیت رکھتے ہیں تو کیوں نہ ہم اس کی جانب توجہ دیں جس سے ہمارے رشتے لوگوں سے بہتر اور مضبوط ہوں۔ دوران گفتگو  اچھےسوالوں کے ذریعےہم لوگوں سے بڑی آسانی سے  رفتہ رفتہ قریب  ہو سکتے ہیں اور لوگوں کے دلوں میں جگہ بنانے میں کامیاب بھی ہو سکتے ہیں۔
          سوال کرنے کی خوبی اور صلاحیت ہر انسان میں فطری طور پر موجودہوتی ہے۔ لیکن سوال کب، کہاں، کیسے، کیوں اور کس سے کرناہے اسے سیکھنے میں  لوگوں کی پوری عمر گزر جاتی ہے مگر  وہ سیکھ نہیں پاتے ہیں۔
اس موقع پر وسیمؔ بریلوی کا خوبصورت شعر ملاحظہ فرمائیں:
؎ کون سی بات کب کہاں کیسے کہی جاتی ہے
یہ سلیقہ  ہو  تو ہر  بات  سنی  جاتی  ہے

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

غزل

غزل جسے میں سمجھتا ہوں اپنا مسیحا مری ہر خوشی سے اسے دشمنی ہے  پسِ مسکراہٹ کی سمجھے  ادسی میری قربتوں میں اسی کی کمی ہے ہیں نمناک آنکھیں جن کے سبب سے وہی کہہ رہے ہیں یہ کیسی نمی ہے ذرّوں کو مہتاب پل میں جو کر دے اسی کی ستائش سے دنیا ہٹی ہے ہے رفتار جس کی زمانے میں بہتر اسی کو گرانے میں دنیا لگی ہے جسے سب سمجھتے ہیں احقر دیا ہے سبھی کے گھروں میں وہی روشنی ہے پرویز اختر خان 

تجاویز براۓ دلچسپ تدریس و آموزش

علم کی اہمیت و افادیت کو ہر ذی روح نہ صرف تسلیم کرتا ہے بلکہ اسے حاصل کرنے کے لیے بقدرِ استطاعت تگ و دو بھی کرتا ہے اس کی خاطر بے شمار اذیتوں اور پریشانیوں سے گزرتا بھی ہے۔ صبر اور استقامت کے ساتھ اس راہ میں جو جانب منزل رواں دواں رہتا ہے کامیابی اسے کے حصے میں آتی ہے ۔تعلیم ہی سے ہم زندگی میں حائل ہونے والی تاریکیوں سے نجات پا سکتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ دوسروں کی راہوں کو بھی روشن کر سکتے ہیں۔ تعلیم ہی ہمیں اعلیٰ اقدار و اخلاق سے روشناس کراتی ہے اچھے اور برے کی تمیز ہمیں تعلیم ہی سے حاصل ہوتی یے۔سماج اور معاشرے میں انقلابی تبدیلیاں تبھی ممکن ہیں جب ہم خود کو اور اپنے اطراف کے لوگوں کو تعلیم کی جانب متوجہ کریں گے۔

غزل

غزل عدو کے سبھی  پیچ و خم   جانتے ہیں جو سب نے کیا ہے ستم جانتے ہیں ہیں خوشیاں ہماری عیاں ان پہ لیکن ہمارے غموں کو وہ کم   جانتے   ہیں نہ ہرگز کرو پارسائی کے دعوے تمہاری خطاؤں کو ہم جانتے   ہیں میری حالتوں سے ہیں اغیار واقف مگر میرے احباب کم جانتے ہیں بچھڑنےکا دلبر سے عالم نہ پوچھو قیامت کا منظر تو ہم جانتے ہیں زمانہ ہے بس اس کی باتوں سے واقف اشاروں کو اس کے توہم جانتے ہیں میں کن الجھنوں میں ابھی مبتلا ہوں یہ بس میرے اہلِ کرم جانتے ہیں ہیں پرویز کی خصلتیں سب پہ ظاہر مگر لوگ   اخترؔ کو کم   جانتے   ہیں پرویز اخترؔ خان